News & Updates
Latest from DLXN Energy
بڑے پیمانے پر تجارتی توانائی ذخیرہ کرنے کی مارکیٹ: رجحانات اور مستقبل

خلاصہ: عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر تجارتی توانائی ذخیرہ کرنے کی مارکیٹ میں غیرمعمولی ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں دنیا بھر میں توانائی ذخیرہ کرنے کی نئی تنصیبات 42 گیگا واٹ تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 85 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ ترقی بنیادی طور پر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں تیزی، گرتی ہوئی بیٹری ٹیکنالوجی کی قیمتوں، اور مختلف ممالک کی جانب سے توانائی کے تحفظ کے لیے مضبوط پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔
عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورت حال بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (IRENA)
کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2024 کے اختتام تک دنیا بھر میں توانائی ذخیرہ کرنے کی مجموعی گنجائش 175 گیگا واٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس میں سے تقریباً 90 فیصد لتیم آئن بیٹری ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ چین اس شعبے میں سب سے آگے ہے اور 2023 میں عالمی تنصیبات کا 55 فیصد حصہ اس کا تھا، جبکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ 22 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ یورپ میں، جرمنی اور برطانیہ توانائی ذخیرہ کرنے کی مارکیٹ میں نمایاں پیش رفت کر رہے ہیں۔ برطانیہ کی حکومت نے 2023 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2035 تک 30 گیگا واٹ توانائی ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، ملک نے گرڈ بیٹری منصوبوں میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلیاں کی ہیں۔
ٹیکنالوجی میں جدت اور قیمتوں میں کمی بلومبرگ نیو انرجی فنانس (BNEF) کے مطابق،
لتیم آئن بیٹری پیک کی اوسط قیمت 2013 میں 780 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تھی جو 2023 میں کم ہو کر 139 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے۔ اس 82 فیصد کمی نے بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو معاشی طور پر قابل عمل بنا دیا ہے۔ مارکیٹ میں اب نئی ٹیکنالوجیز بھی ابھر رہی ہیں۔ سوڈیم آئن بیٹریاں، جو لتیم سے سستی اور زیادہ پائیدار ہیں، تجارتی پیمانے پر تیار کی جا رہی ہیں۔ چین کی CATL کمپنی نے 2023 میں اعلان کیا تھا کہ وہ سوڈیم آئن بیٹریوں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر رہی ہے، جس کی قیمت لتیم آئن بیٹریوں سے تقریباً 30 فیصد کم ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، طویل دورانیے کی توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز (LDES) پر بھی تحقیق جاری ہے۔ امریکی محکمہ توانائی نے 2023 میں طویل دورانیے کی توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کے لیے 325 ملین ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد 10 سے 24 گھنٹے تک توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
DLXN سولر پینلز اور توانائی ذخیرہ کرنے کا انضمام بڑے
پیمانے پر تجارتی توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار سولر پینلز کے ساتھ مؤثر انضمام پر ہے۔ اعلیٰ کارکردگی والے سولر پینلز کے ساتھ مل کر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام گرڈ کو مستحکم بناتے ہیں اور قابل تجدید توانائی کے اتار چڑھاؤ کو متوازن کرتے ہیں۔ جدید سولر ٹیکنالوجی کے ساتھ مربوط توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام دن کے اوقات میں پیدا ہونے والی اضافی توانائی کو ذخیرہ کر کے رات کے اوقات میں استعمال کے قابل بناتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی آتی ہے بلکہ گرڈ پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔
سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے مواقع لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی ایک رپورٹ کے
مطابق، ریاستہائے متحدہ میں بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی لاگت 2023 میں 380 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ تھی، جو 2025 تک 300 ڈالر تک کم ہونے کی توقع ہے۔ اس کمی سے مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی۔ گولڈمین سیکس کی پیش گوئی کے مطابق، عالمی توانائی ذخیرہ کرنے کی مارکیٹ 2030 تک 400 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس میں یوٹیلیٹی اسکیل منصوبے، صنعتی ایپلی کیشنز، اور تجارتی عمارتوں کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام شامل ہیں۔
صنعتی اور تجارتی شعبے میں ترقی صنعتی اور تجارتی (C&I) شعبے میں توانائی ذخیرہ
کرنے کے نظام کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فیکٹریوں اور بڑی عمارتوں میں C&I انرجی سٹوریج سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے اور بجلی کی بندش کے دوران کاروبار کو جاری رکھا جا سکے۔ نیشنل رینیوایبل انرجی لیبارٹری (NREL) کے مطابق، 2023 میں امریکہ میں تجارتی شعبے میں توانائی ذخیرہ کرنے کی تنصیبات 45 فیصد بڑھی ہیں۔ اس ترقی کی اہم وجہ ٹیکس کریڈٹس اور ریاستی سطح پر مراعات ہیں۔
گرڈ کی لچک اور قابل تجدید توانائی کا انضمام بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کی
2024 کی رپورٹ کے مطابق، 2030 تک دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی گنجائش 7,300 گیگا واٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس میں سے 60 فیصد شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی ہوگی، جس کے لیے مضبوط توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام گرڈ کو درج ذیل طریقوں سے مضبوط بناتے ہیں: - فریکوئنسی ریگولیشن - وولٹیج سپورٹ - بیک اپ پاور - چوٹی کی طلب میں کمی یہ خدمات گرڈ آپریٹرز کے لیے انتہائی اہم ہیں، خاص طور پر جب قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
مستقبل کی پیش گوئیاں ڈی این وی (DNV) کی توانائی ٹرانزیشن آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق،
2030 تک عالمی توانائی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 600 گیگا واٹ تک پہنچ سکتی ہے، جو 2023 کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ یہ ترقی بنیادی طور پر چین، امریکہ، اور یورپ میں ہوگی۔ اس دوران، لتیم آئن بیٹریوں کی قیمت میں مزید کمی متوقع ہے۔ BNEF کی پیش گوئی ہے کہ 2026 تک بیٹری پیک کی قیمت 100 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ سے بھی کم ہو سکتی ہے، جو توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو مزید سستا بنائے گی۔
قابل رسائی توانائی ذخیرہ کرنے کے حل بڑے پیمانے پر منصوبوں کے علاوہ، چھوٹے اور
درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بھی توانائی ذخیرہ کرنے کے حل دستیاب ہیں۔ ریذیڈینشل ESS اور لتیم بیٹری سٹوریج نظام چھوٹے پیمانے پر توانائی کے تحفظ کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی لاتے ہیں بلکہ بجلی کی بندش کے دوران بھی اہم آلات کو چلانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ مزید برآں، کچھ ممالک میں اضافی توانائی کو گرڈ کو واپس فروخت کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
نتیجہ بڑے پیمانے پر تجارتی توانائی ذخیرہ کرنے کی مارکیٹ غیرمعمولی رفتار سے ترقی
کر رہی ہے۔ گرتی ہوئی قیمتیں، مضبوط پالیسی سپورٹ، اور قابل تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے حصے نے اس شعبے کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنا دیا ہے۔ مستقبل میں مزید جدت اور ترقی کی توقع ہے، جو توانائی کی منتقلی کے عالمی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تصویر: ایک جدید گرڈ اسکیل توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت جس میں بڑی سفید کنٹینر بیٹریاں اور شمسی پینل کے کھیت نظر آ رہے ہیں، پس منظر میں صاف نیلا آسمان۔ کلیدی الفاظ: توانائی ذخیرہ، تجارتی بیٹری سسٹم، گرڈ اسکیل اسٹوریج، قابل تجدید توانائی، لتیم آئن بیٹری، C&I انرجی سٹوریج، مارکیٹ رجحانات، توانائی کی منتقلی
