گرڈ ٹائیڈ سولر سسٹمز: عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور پاکستان کے امکانات

کیا آپ جانتے ہیں کہ 2023 میں دنیا بھر میں نصب شدہ شمسی صلاحیت 1. 6 ٹیراواٹ (TW) تک پہنچ گئی ہے، جس میں گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کا حصہ 78 فیصد ہے؟ یہ اعداد و شمار انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ گرڈ سے منسلک شمسی نظام توانائی کے عالمی منظرنامے میں کس طرح انقلاب برپا کر رہے ہیں۔
گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت
گرڈ ٹائیڈ سولر سسٹمز کی مقبولیت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ان کی معاشی افادیت ہے۔ بلومبرگ نیو انرجی فنانس (BNEF) کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دہائی میں شمسی پینلز کی قیمت میں 90 فیصد کمی آئی ہے، جس سے فی کلو واٹ گھنٹہ (kWh) کی لاگت 0. 03 ڈالر سے بھی کم ہو گئی ہے۔ یہ کمی روایتی کوئلے اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت سے بھی کم ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں میں بجلی کے بحران اور ٹیرف میں مسلسل اضافے نے گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں نیٹ میٹرنگ کنکشنز کی تعداد 100,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہے۔
ٹیکنالوجی میں ترقی اور کارکردگی میں بہتری
جدید گرڈ ٹائیڈ سسٹمز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی نے کارکردگی کے نئے معیار قائم کیے ہیں۔ نیشنل رینیو ایبل انرجی لیبارٹری (NREL) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، مونو کرسٹل لائن سلیکون پینلز کی اوسط کارکردگی اب 22. 8 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو 2015 میں صرف 16. 5 فیصد تھی۔ یہ پیش رفت DLXN کے جدید سولر پینلز میں بھی جھلکتی ہے، جو جدید PERC اور TOPCon ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔
انورٹر ٹیکنالوجی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سمارٹ انورٹرز اب گرڈ کے ساتھ دو طرفہ کمیونیکیشن کر سکتے ہیں، جس سے وولٹیج اور فریکوئنسی کے اتار چڑھاؤ کو خودکار طور پر منظم کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیشنل رینیو ایبل انرجی ایجنسی (IRENA) کے مطابق، 2023 میں نصب شدہ 65 فیصد گرڈ ٹائیڈ سسٹمز سمارٹ انورٹرز سے لیس تھے، جو 2020 میں صرف 40 فیصد تھے۔
بیٹری اسٹوریج کا کردار
گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کی اہم ترین چیلنجوں میں سے ایک شمسی توانائی کی متغیر نوعیت ہے۔ اس مسئلے کا حل بیٹری اسٹوریج سسٹمز ہیں۔ لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری کی 2024 کی تحقیق کے مطابق، بیٹری اسٹوریج کی لاگت میں 2015 سے اب تک 70 فیصد کمی آئی ہے، اور اب یہ 123 ڈالر فی کلو واٹ گھنٹہ ہے۔
پاکستان میں بھی بیٹری اسٹوریج کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے DLXN لیتھیم بیٹری اسٹوریج اور ریذیڈینشل ESS حل فراہم کرتا ہے، جبکہ تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے C&I انرجی اسٹوریج سسٹمز دستیاب ہیں۔ یہ سسٹمز نہ صرف بجلی کی بندش کے دوران بیک اپ فراہم کرتے ہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ خود کفالت کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ پالیسیاں اور ریگولیٹری فریم ورک
دنیا بھر میں نیٹ میٹرنگ پالیسیاں گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کی ترقی کا اہم محرک ہیں۔ یورپی یونین نے 2023 میں نظر ثانی شدہ رینیو ایبل انرجی ڈائریکٹو (RED III) کے تحت رکن ممالک کو ہدایت دی ہے کہ وہ 2025 تک گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کے لیے سہل طریقہ کار اپنائیں۔
پاکستان میں NEPRA کی نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت، صارفین اپنے اضافی شمسی توانائی کو گرڈ میں فروخت کر سکتے ہیں اور جب سولر سسٹم کافی بجلی پیدا نہ کرے تو گرڈ سے بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پالیسی نے گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے سرمایہ کاری کو انتہائی پرکشش بنا دیا ہے۔ سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن (SEIA) کے مطابق، مناسب نیٹ میٹرنگ پالیسیوں والے خطوں میں گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کی تنصیب کی شرح 35 فیصد زیادہ ہے۔
پاکستان میں مارکیٹ کے امکانات
پاکستان میں گرڈ ٹائیڈ سولر مارکیٹ میں نمایاں ترقی کے امکانات موجود ہیں۔ ورلڈ بینک کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں شمسی توانائی کی صلاحیت 2. 9 ملین گیگاواٹ (GW) ہے، جو ملک کی موجودہ بجلی کی ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہے۔ تاہم، اس صلاحیت کا صرف 1. 5 فیصد استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے مشیر برائے توانائی کے مطابق، حکومت نے 2030 تک شمسی توانائی کی صلاحیت کو 20,000 میگاواٹ (MW) تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کلیدی کردار ادا کریں گے۔ DLXN کے سولر سلوشنز اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتے ہیں، ابتدائی مشاورت سے لے کر تنصیب اور دیکھ بھال تک۔
مستقبل کے رجحانات گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کے مستقبل میں کئی دلچسپ رجحانات نظر آ رہے ہیں۔
سب سے اہم رجحان سمارٹ گرڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ انضمام ہے، جس سے توانائی کی تقسیم اور استعمال میں زیادہ کارکردگی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ، عمودی محور والے شمسی ٹریکرز بھی مقبول ہو رہے ہیں، جو سورج کی حرکت کے ساتھ خودکار طور پر گھوم کر زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کرتے ہیں۔ DLXN کا سولر سن فلاور ٹریکر اس ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی پیش گوئی کے مطابق، 2030 تک عالمی شمسی صلاحیت 4. 7 ٹیراواٹ تک پہنچ جائے گی، جس میں گرڈ ٹائیڈ سسٹمز کا حصہ 85 فیصد ہوگا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گرڈ ٹائیڈ سولر سسٹمز صرف ایک رجحان نہیں بلکہ توانائی کے مستقبل کا لازمی حصہ ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اس تبدیلی میں پیش پیش رہے اور اپنی توانائی کی خودمختاری حاصل کرے۔
