شمسی توانائی کی کارکردگی میں تاریخی پیش رفت: نیا ریکارڈ 47.6 فیصد
ملٹی جنکشن ٹیکنالوجی: ایک تکنیکی جائزہ
روایتی سلکان پر مبنی سولر سیلز کی کارکردگی 20-22 فیصد کے درمیان محدود ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شمسی سپیکٹرم کا محدود استعمال ہے۔ تاہم، NREL نے پیرووسکائٹ اور سلکان کو یکجا کرنے والی نئی ہائبرڈ ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو شمسی روشنی کے مختلف طول موجوں کو الگ الگ جذب کرتی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق، نیا سیل تین پرتوں پر مشتمل ہے: اوپری پرت پیرووسکائٹ (UV اور نیلی روشنی جذب کرتی ہے)، درمیانی پرت سلکان (مرئی روشنی)، اور نچلی پرت انڈیم گیلیم آرسنائیڈ (اورکت روشنی)۔ یہ ڈیزائن شمسی سپیکٹرم کے 92 فیصد حصے کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، IEA Solar Report کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عالمی شمسی صلاحیت 2025 میں 1,200 گیگاواٹ تک پہنچ گئی تھی، جس میں سے صرف 2 فیصد ملٹی جنکشن ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔
تجارتی استعمال کے چیلنجز
اس ٹیکنالوجی کی تجارتی کامیابی کے لیے کئی رکاوٹیں ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج پیداواری لاگت ہے۔ NREL کے اعداد و شمار کے مطابق، فی واٹ پیداواری لاگت فی الحال $0.85 ہے، جبکہ روایتی سلکان سیلز کی لاگت $0.20 فی واٹ ہے۔ تاہم، محققین کا اندازہ ہے کہ 2028 تک بڑے پیمانے پر پیداوار سے یہ لاگت $0.35 فی واٹ تک کم ہو سکتی ہے۔
جرمنی کی فرون ہوفر انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق، Fraunhofer ISE نے ثابت کیا ہے کہ ملٹی جنکشن سیلز کی عمر 25 سال سے زائد ہو سکتی ہے، جو روایتی پینلز کی عمر (20-25 سال) کے برابر ہے۔
پاکستان کے لیے مواقع
پاکستان میں شمسی توانائی کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت 1,500 میگاواٹ ہے، جو 2030 تک 10,000 میگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کے پاکستان میں استعمال سے دو اہم فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
- زیادہ کارکردگی کے باعث کم زمین پر زیادہ بجلی پیدا ہو گی
- گرم موسم میں کارکردگی میں کمی (جس کا سامنا روایتی پینلز کو ہوتا ہے) نمایاں طور پر کم ہو گی
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، World Bank Solar Report پاکستان میں شمسی توانائی کی لاگت 2020 سے 2025 کے درمیان 45 فیصد کم ہوئی ہے، اور نئی ٹیکنالوجی اس رجحان کو مزید تقویت دے گی۔
ڈی ایل ایکس این کا کردار
ڈی ایل ایکس این انرجی اس شعبے میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔ ہمارے سولر پینلز میں جدید سلکان ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے، اور ہم لیتھیم بیٹری سسٹمز فراہم کرتے ہیں جو شمسی توانائی کے ذخیرے کو بہتر بناتے ہیں۔
ہمارے سولر سن فلاور اور ای او ایس کارپورٹ جیسے جدید ڈیزائنز پہلے ہی صارفین کو زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ جب یہ نئی ملٹی جنکشن ٹیکنالوجی تجارتی طور پر دستیاب ہو گی، تو ہم ہیلیو 2 سیریز میں اسے شامل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔
مستقبل کی پیش گوئی
بلومبرگ نیو انرجی فنانس (BNEF) کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق، BNEF Report 2030 تک ملٹی جنکشن سولر سیلز کا عالمی مارکیٹ شیئر 15 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 180 گیگاواٹ نئی صلاحیت اس ٹیکنالوجی پر مبنی ہو گی۔
انٹرنیشنل رینیوایبل انرجی ایجنسی (IRENA) کے مطابق، IRENA Data اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال سے 2030 تک شمسی توانائی کی عالمی لاگت میں مزید 30 فیصد کمی آ سکتی ہے۔
عملی مشورہ
اگر آپ شمسی توانائی میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہے ہیں تو یہ وقت بہترین ہے۔ موجودہ ٹیکنالوجی پہلے ہی انتہائی موثر ہے، اور آنے والے سالوں میں نئی ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے پہلے اپنے سسٹم کی تنصیب کروانا عقلمندی ہے۔
ہماری ٹیم آپ کی ضروریات کے مطابق بہترین حل تجویز کر سکتی ہے۔ ہمارے پروجیکٹس کے صفحے پر آپ ہماری سابقہ تنصیبات دیکھ سکتے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے، براہ کرم ہم سے رابطہ کریں۔